Recent comments
Restaurant Cuisines
سہل ممتنع

سہل ممتنع
چھوٹی بحر میں بڑی بات کہہ جانا یا ایسی بات کہنا جس کے معنی بظاھر سادہ ہوں لیکن غور کرنے پر زیادہ وسعت نظر آیے، کو سہل ممتنع کہتے ہیں- اس معاملے میں میر تقی میر کو سب سے بالا مقام دیا جاتا ہے لیکن اردو میں دیگر کئی شاعروں کے ہاں بھی سہل ممتنع کا عنصر کافی ملتا ہے- گہری اور بھرپور بات مختصر الفاظ میں کہنا بہت مشکل کام ہے اور یہ ماہرین فن ہی کر سکتے ہیں- میر کے ہاں سادگی اور سلاست کا عنصر کافی زیادہ ہے- سہل ممتنع ان کا خاص فن ہے- سادہ اور چھوٹے سے شعر میں بڑی بڑی بات کہہ جاتے ہیں-
اس میں راہ سخن نکلتی تھی
شعر ہوتا ترا شعار اے کاش
سہل ممتنع اور چھوٹی بحروں میں کچھ اشعار ملاحظہ کیجیۓ-
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
غالب
بس یہی کام سب کو کرنا ہے
یعنی جینا ہے اور مرنا ہے
سانس لیتے ہویے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
اکبر
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھر تھرایے
شہر میں شور، گھر میں تنہائی
دل کی باتیں کہاں کرے کوئی
ناصر کاظمی
New Forums
Questions and Answers
Qatar Guide
- Sample Budget and Cost of Living
- Qatar Schools Database
- Residents Guide to Qatar
- Siteseeing in Qatar
- Traffic Rules
- Attending a Qatari Wedding
- Gift ideas from Qatar
- Buying a used car in Qatar
- Renting in Qatar
- What to consider when renting in Qatar
- Preparing for Winter in Qatar
- Registering a birth in Qatar
- Blackberry phones in Qatar
- Old Qatar
- What's Happening in Qatar
- Online Shopping in Qatar
- What does Doha look like?


Comments
lawa said
ميته بوائے ...چهوٹي بحر ميں شاعري كرنا ايسا هي هے حيسے كوزے ميں دريا بند كرنا اور يه صرف استازه كرام كا هي كمال هے
ہم ہوئے تم ہوئے کہ مير ہوئے
اس کي زلفوں کے سب اسير ہوئے
جن کي خاطر کي استخوان شکني
سو ہم ان کے نشان تير ہوئے
نہيں آتے کسو کي آنکھوں ميں
ہو کے عاشق بہت حقير ہوئے
آگے يہ بے ادائياں کب تھيں
ان دنوں تم بہت شرير ہوئے
اپنے روتے ہي روتے صحرا کے
گوشے گوشے ميں آب گير ہوئے
ايسي ہستي عدم ميں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل شير ہوئے
ايک دم تھي نمود بود اپني
يا سفيدي کي يا اخير ہوئے
يعني مانند صبح دنيا ميں
ہم جو پيد اہوئے سو پير ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سے
مير جي ان سے مل فقير ہوئے
mali01 said
مسند گل منزل شبنم ہوئی دیکھ ...مسند گل منزل شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا
دور آتش کیا سرمہ چشم
داغ دل دیدہ سمندر ہے
lawa said
ميته بوائے ...يه ان دو بچوں کے نام
جہاں مردے ہوں ،قبریں ہوں
جہاں ناموں کے کتبے ہوں
وہاں تو شام ہونے پر اگر بتی جلاتے ہیں
وہاں تو فاتحہ ہوتی ہے
اور چادر چڑھاتے ہیں
وہاں تو سوگ ہوتا ہے
وہاں تو بین ہوتا ہے
وہاں جا کر تو زندہ آدمی بے چین ہوتا ہے
مگر۔’’یہ‘‘ کیسی بستی ہے
یہاں زندوں کو گاڑا ہے
یہاں تو آدمی نے آدمیت کو پچھاڑا ہے
یہ قبریں ہیں
مگر مردوں کے تن میں جان باقی ہے
یہاں کتبے ہیں
لیکن موت کا اعلان باقی ہے
یہاں جب شام ہوتی ہے
تو بستی جاگ جاتی ہے
سو خونِ آدمیت سے
سحر تک یہ نہاتی ہے
یہاں بھی شور ہوتا ہے
مگر طبلے کی تھاپوں کا
یہاں بھی بین ہوتا ہے
مگر زخمی الاپوں کا
یہاں بھی اشک بہتے ہیں
مگر لب مسکراتے ہیں
یہاں تو بین کرتے ساز بھی نغمے سناتے ہیں
یہاں کچھ گورکن ہر روز
لاشوں کو سجاتے ہیں
جھروکوں سے لہو رستا ہے
تو گھنگھرو بجاتے ہیں
یہ بستی ہے کہ زندہ بستیوں کا موت کا عالم
کریں ان محفلوں میں عیش یا تہذیب کا ماتم
یہاں مجبور لاشیں ہیں
مگر محسوس ہوتا ہے
کہ یہ تہذیب کے ہیں تازیے
دل خون روتا ہے
یہ قبرستان ہے
لیکن یہاں تو رقص ہوتا ہے!!
lawa said
ميته بوائے ...يه لكهتے وقت ميري انكهوں ميں انسو هيں
mali01 said
buhat khub lawa. ...buhat khub lawa.
lawa said
نوازش ...ليكن يه لمحه فكريه هے
lawa said
انسان كو انسان بناو ...خدایا کیوں مجھے لایا زمیں پر
لُٹا انمول سرمایا زمیں پر
فرشتوں میں رہا ہوتا تو کیا تھا
میں انساں بھی نہ بن پایا زمیں پر
گناہوں کے تلے دبتا گیا ہوں
ثوابوں کا نہ پھل کھایا زمیں پر
میں کس جنگل میں آ کے بس گیا ہوں
کوئی قانون نہ سایہ زمیں پر
پناہ گاہیں کہاںڈھونڈوں امان کی
کہ اک سیلِ رواں آیا زمیں پر
کوئی امبر پہ بچ نکلا تپش سے
مجھے سورج نے جُھلسایا زمیں پر
غریبوں کو ملے روزی نہ روٹی
یہ کیسا قحط ہے آیا زمیں پر؟
کوئی سُنتا نہیں خلقِ خُدا کی
امیرِ شہر کون آیا زمیں پر ؟
کئی خونخوار بھوکے بھیڑیوں نے
زمیں والوں کو ہے کھایا زمیں پر
کئی وعدے کیے اس نے مکرر
کبھی پورے نہ کر پایا زمیں پر
دلوں کی بات رہتی ہے دلوں میں
دلوں کا بھید نہ پایا زمیں پر
میں اس سے کیا کہوںاپنی کہانی
وہ میرا ہی نہ بن پایا زمیں پر
suzain said
Sab ki post buhat hi achi ...Sab ki post buhat hi achi hai.